Rabbit Trap Movie

 Rabbit Trap Movie 


یاد رکھنا ، تمہارے سارے راز تمہارے جسم میں چھپے ہوتے ہیں۔
خیرجان خیرول ۔۔۔۔
ہم ہمیشہ دوسروں کے رازوں کی کھوج میں رہتے ہیں،‌ مگر کبھی خود میں چھپے رازوں کو‌ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
ہم میں کیا کچھ چھپا ہوتا ہے،‌ اس کا ہمیں خود اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
ہم جو کچھ دیکھتے ہیں، سنتے ہیں،‌ جو محسوس کرتے ہیں اور جو سوچتے ہیں ، وہ سب ہمارے اندر محفوظ ہو جاتا ہے۔
یہ سب ہماری شخصیت کے لیے ایندھن کی طرح ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
Rabbit Trap دراصل ایک فلم کم اور
ایک فلسفیانہ کتاب زیادہ لگتی ہے۔
اس کی کوئی روایتی کہانی نہیں ، نہ آغاز، نہ اختتام، نہ وہ انٹرٹینمنٹ جس کی عام فلم بین توقع کرتا ہے۔۔۔۔۔ ایسی فلمیں خاص فلمبینز کیلیے ہوتی ہیں نا کہ سب کیلیے ۔۔۔۔
اس میں صرف چار کردار ہیں ۔۔۔۔۔۔
ایک علامتی کردار ، ایک کردار کی جلک بس خواب میں ہی دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔
اگر دیکھا جائے تو دراصل بس دو ہی کردار ہیں ۔
  ایک کپل ، میاں اور بیوی جو جنگل میں جا کر قدرتی ماحول کی اُن آوازوں کو ریکارڈ کرتے ہیں
جن پر عام طور پر کوئی دھیان نہیں دیتا،
یا جنہیں سننے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی۔۔۔۔
فلم ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے۔۔۔۔۔ 
کیا آواز کسی شے کی طرح وجود رکھتی ہے؟
جواب ہے ۔۔۔۔۔۔ یقیناً نہیں۔
کیونکہ آواز دراصل ارتعاش (Vibration) ہے۔
نہ اسے پکڑا جا سکتا ہے، نہ دیکھا جا سکتا ہے۔
آواز کا کوئی فزیکل وجود نہیں، مگر اس کا اثر حقیقی ہوتا ہے۔۔۔۔۔
کان پھٹ جانا ، شیشہ ٹوٹ جانا ، خوف پیدا ہونا
اور سکون ملنا۔۔۔۔۔۔۔۔
حقیقت سے جُڑا تجربہ۔۔۔۔‌‌ 
۔31 جنوری کو میرے شهر اور محلے میں حالات کچھ ایسے تھے ، کہ صبح سے رات تک گولیوں اور گولہ باری کی آوازیں گونجتی رہیں۔ ( جیسا کہ خبروں میں آچکا ہے ) پورا شہر خوف میں تھا،‌ اور ہمارا محلہ تو براہِ راست اس دائرے میں تھا۔
یہ سلسلہ ایک دن تک بڑی شدت کے ساتھ چلا۔ اور دوسرے دن وقفے وقفے سے ، مگر اس کے اثرات… ابھی تک ہمارے اندر زندہ ہیں۔
پانچ دن گزر جانے کے بعد بھی هم کسی بھی غیر متوقع آواز سے سہیم جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
ھمارے خواب ڈراؤنے ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔ 
اس دن گولیوں کی بوچھاڑ اور گولہ خوفناک آوازیں ہمارے اندر گھر کر گئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
فلم کا ایک جملہ بھی کچھ ایسا ہے۔۔۔۔۔
“آواز میموری ہوتی ہے،
ہوا میں تراشی ہوئی۔
اور جب تم کوئی آواز سنتے ہو،
تو تم اس کا گھر بن جاتے ہو۔
تمہارا جسم وہ گھر ہے
جس میں وہ بھٹکتی رہتی ہے۔”۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فلم ایسی ہے جیسے کسی بڑے فلسفی کی کتاب ، جسے عام قاری پوری پڑھ تو سکتا هے مگر پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔ 
مگر کچھ ابواب ۔۔۔۔۔۔ کچھ سطریں۔۔۔۔۔ وہ ضرور اچھی طرح سمجھ لیتا هے ۔۔۔۔۔
اور وہی اس کے لیئے کافی ہوتا یے۔۔۔ 
Rabbit Trap کو
اچھی فلم کے شوق میں مت دیکھیں ، بلکہ‌اسے ایک فلسفیانہ متن سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کے ساتھ دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ 
۔۔۔۔۔۔۔ ایک‌اور لائن ۔۔۔۔۔
جب ہم بچے ہوتے ہیں، تو ہمارے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے‌ ، اسے سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ 
تب ہمارا دماغ کہانیاں بناتا ہے‌، تاکہ ہم اس سب کا کوئی مطلب نکال سکیں۔
لیکن وہ صرف کہانیاں ہوتی ہیں۔
ہمیں انہیں بھولنا سیکھنا چاہیے ۔
مگر سوال یہ ہے۔۔۔کیا ہم واقعی بھول پاتے ہیں؟
ہم بھولنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
 مگر جو کچھ ہم کرتے ہیں،‌جو کچھ ہم سوچتے ہیں ، وہ سب ہمارے جسم کا حصہ بن جاتا ہے۔
 کیونکہ جسم کچھ نہیں بھولتا۔۔۔۔۔۔۔
 


Comments